سیاست میں خاندانوں کی سیاست: چند تاریخی حقائق
پاکستان میں کئی لوگ یہ بات کرتے ہیں کے ہمارے ہاں سیاست چند خاندانوں یا شخصیات کے گرد ہی گھوم رہی ہے. اس وقت وہ بھتو خاندان یا شریف خاندان کا نام لے کر کہے گے کہ اصل ووٹ ان دو خاندانوں کو ہی جاتا ہے اور باقی امیدوار صرف ان لوگوں کے نمائندے کے طور پر ہی پیش ہو رہے ہوتے ہیں. کافی حد تک یہ بات درست بھی ہی پر اگر ہم دیکھیں تو ہمیں یہ شخصیت پرستی پوری دنیا کی سیاست میں نظر آے گی. چاہے وہ بھارت میں گاندھی خاندان ہو، امریکا میں کینیڈی، بنگلادیش میں مجیب ارحمان کا خاندان، آپ دنیا کا کوئی بھی ملک اٹھایئں چاہے وہ ملیشیا ہو، انڈونیشیا ہو، شام ہو، عراق ہو غرض ہر جگہ آپ کو خاندان نظر آیئں گیں جو اس ملک کی سیاست کا ایک اہم حصہ ہوں گے چاہے وہ اقتدار میں ہوں یا نہ ہو ان کا اثر اس ملک کی سیاست اور لوگوں کے ایک بڑے حصے پر ھے. پاکستان میں شریف خاندان کو ابھی ہم ایک طرف رکھ کر باقی تمام خاندانوں پرنظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہو گا کے ان تمام خاندانوں کے سرکردہ افراد اپنی سیاست کے عروج پر غیر طبعی طریقے سے اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے . شریف خاندان کو ایک طرف رکھنے کی ایک وجہ ابھی یہی ھے کے ان ہی کے پاس ابھی یہ امتیاز نہیں آیا اور ابھی ان کی پہلی پیڑھی سیاست میں آی ھے. ان سے پہلے بھی کیی خاندان آ کر جا چکے ھے پرابھی ان کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا.
اب ہم لوگوں کی نفسیات پر آیئں تو آپ خود یہ مشاہدہ کریں گے کہ لوگ اپنے آپ کو اس شخصیت یا اس کے ساتھ زیادہ منسلک محسوس کرتے ہیں جو ان کے خیال میں ان کے لئے محنت کر رہا ہو رہا یا جو ایسا تاثر دے کہ اس کا جینا مَرنا اس عوام کے لئے ھے اور اگر اس معما ملے میں وہ واقعی اس دنیا سے کوچ کر جایئں تو پھر اگر ہم سہی الفاظ استعمال کرے تو وو ان کے لئے دیوتا کے منصب پر فیض ہو جاتا ھے. یہ انسانی خصلت ھے جس سے اپ میں یا کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ کئ مواقه پر وو اپنی قوم کے ساتھ واقعی مخلص ہوتے ہیں پر سیاست کئ اونچ نیچ کے معملات عام لوگو کئ سمجھ سے کہ دفع بالاتر ہوتے ہیں جس کئ وجہ سے وو کہ دفع اپنی قیادت سے بدظن ہو چکے ہوتے ہیں. پر بوہت بعد میں جا کر اُ احساس ہوتا ھے کے ان کے لیڈرو کے فیصلے اصل میں ان کے فائدے کے لئے ہی تھی.
اس کے علاوہ میرا ماننا اور اس مے دوسرے لوگ میرے سے اختلاف کر سکتے ہیں کے لیڈر بناے جاتے ہیں پیدا نہیں ہوتے. ان کئ تعلیم، حالات، واقعات، تربیت، مطالعہ اور اس طرح کے بہت سے دوسرے عوامل اس کو لیڈر بنانے مے مدد دیتیں ہیں. اگر کوئی کہے کے وو پیدائشی لیڈر ھے تو مے اس سے اختلاف کرتا ہو. اسی لئے جب اپ موروثی سیاست کئ بات کرتے ہیں تو اپ کو یہ عوامل بھی مد نظر رکھنے پڑتے ہیں. اگر اپ عظیم رہنما اور ان کئ زندگی کا مطالعہ کرے یا عظیم علما اور مفکرین کئ زندگی کا مطالعہ کرے تو ان مے سے اکثر بھی متوسط طبقہ سے ان کا تعلق تھا. اس کئ وجہ یہ نہیں ھے کے غریب طبقه سے کوئی رہنما پیدا نہیں ہوا ایسی بھی کہ مثالیں موجود ہیں کے بہت سے عظیم رہنما اس طبقه سے بھی اے مگر اس کے کے لئے شرائط ووہی رہی ہیں جن کا ُپر ذکر کیا گیا یعنی تعلیم، مطالعہ، تربیت، زندگی کے سبق وغیرہ. اسی لئے اپ اگر تاریخ کا مطالعہ کرے تو اپ دیکھ گی کے بادشاہ اپنی اولاد کئ تربیت ایک علیحدہ انداز مے کرتے تھے جو اس وقت کئ عام عوام کو دے جانے والی تعلیم سے بہت زیادہ وسیح اور مشکل ہوتا تھا تا کے وو زندگی مے انے والے معملات مے سبط قدم رہے کیوں کہ انہوں نے صرف اپنے لئے ہی نہیں ایک قوم کے لئے جینا تھا جس کے معیار اور اتوار ھے بقیہ لوگوں سے مختلف ہوتے تھے. یہی آج بھی حقیقت ھے جس کئ وجہ سے یہ خاندان اپنے بچوں کئ تربیت بھی اسی انداز مے کرنے کئ کوشش کرتے ہیں. میرا مقصد یہا پر کسی کئ حمایت کرنا نہیں ھے چند حقائق کو سامنے لانا ھے. ضروری نہیں کے ان کئ یہ تربیت ایک سہی رہنما پیدا کر سکے جیسا کے تاریخ بھی ہم کہ مواقه پر بتائی ھے پر مقصد چند ایسی جزیات کئ طرف لانا تھا جاے اکثر ہمارے دانشور بھی بحث کرتے ہوئے خیال نہیں کرتے.
یہ مے نے اپنے خیالات کا اظھار کیا ھے پڑھنے والے کا مجھ سے متفق ہونا ضروری نہیں ھے.
Link to this post