یاسر کی دھمکی اور جیو

by Muhammad Moeen Dec 27, 09, 08:46 PM

تو آج میرے عزیز بلکہ طارق عزیز دوست (کیوں کے انھیں بھی طارق عزیز کی ترہا فضول میں نعرے مارنے کا شوق ہے) نے مجھ بیچارے کو دھمکی دی کے جو کر سکتے ہو کر لو. بات کی ابتدا صرف یہاں سے ہوئی کے میں نے کہا کے بھایی آپ نے میری اجازت کے بغیر میرے اشعار چاہے وہ جتنے بھی گھٹیا ہو ان کا استعمال کیسے کر لیا. بس جی وہ تو ایسے پل پڑے مجھ بیچارے پر جیسے چھلر معاف کیجیے گا یہ غیر مہذب ہو گا کہنا میرا مطلب تھا گشتی پولیس (بھیی اپنی ذہنیت صاف کریں اردو میں ان بیچاروں کے لئے یہی ترکیب استعمال ہوتی ہے یقین نہ آے تو پوچھ لیں کسی اُستاد سے اور یہاں میری مراد طبلے والے اُستاد نہیں ڈنڈے والے اُستاد ہیں ہاں جی وہی جو گردان یاد کرواتے کرواتے گردن سمیت پتا نہیں کیا کیا توڑ مرور کر رکھ دیتے تھے) سو ہاں میں کہ رہا تھا کے جیسے گشتی پولیس ایک غریب ڈبل سواری والے کے پیچھے پڑتے ہیں. آخر مجھ سے بھی نہ رہا گیا اور میں نے اس کو کہا کے بھایی سیدھے طریقہ سے بات کرو ورنہ میں بھی ایسا جواب دو گا کے تم یاد رکھو گے. پہلے تو ہوئے حیران پریشان پھر بولے کہ کیسے. میں نے جواب دیا کے تم کیا سمجھتے ہو میں کچھ نہیں کر سکتا میں تمہاری شکایات جیو والو سے کروں گا. وہ معاملے کی نزاکت کو نہ سمجھتے ہوئے مسکراۓ اور فرمانے لگے کے اس سے میری صحت پر کیا فرق پڑتا ہے تو میں ان کی کم عقلی پر ہنس دیا. میں نے کہا حضور اس دھمکی کو خالی مذاق میں نہ جانے دیجیے گا آپ کیا اس سے تو آج کل بڑے بڑے سورما گھبرا تے اٹھتے ہیں آپ کس باغ کی گاجر مولی ہیں. آپ کی سوچ ہے جب جیو والے کالا جھنڈا لہرا کر سامنے کامران خان کو بٹھاتے ہیں تو لوگ ضیاء صاحب کی تقاریر بھول جاتے ہیں (یہ علیحدہ بات ہے کے لوگ پہلے ہی بھول چکے ہے لیکن محاورتاً بات ہو رہی ہے سمجھا کرے نہ). یہاں بیٹھے کامران خان صاحب اور وہا سے نوحہ شروع اور اس بھلیکے میں بھی نہ رہیے گا کے بات کرنے کے لئے کسی لمبی چوڑی وجہ یا دلائل کی ضرورت ہے. بھیا آپ ان کے حوالے صرف یہ بات کر دے کے سورج مشرق سے نکلتا ہے وہ اس کو بھی اتنی بار دہراۓ دے گے کہ اپکہ میرے جیسا بندہ بھی تلملا اٹھے یہ حکومت کیا چیز ہے. پھر جب جناب حامد میر صاحب اور شاہد مسعود صاحب اوے ہوے ہوے سمجھو بس اپ ان کے حوالے یہ خبر بھی کر دے کے پاکستان دنیا کا ترقی یافتہ ترین ملک بن گیا ہے تو کیا اگلی دفع آپ خود توبہ کریں گے کے بھائی معاف کرو غلطی ہو گئی آئندہ ایسی غلطی نہیں ہو گی. آج کل تو کسی کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی کے میں فلاں بھائی کا بندہ ہو یا میں فلاں بھائی کا بندہ ہو اتنا کہنا ہی کافی ہے کے میں فلاں چننیل کا رپورٹر ہو بس لوگ تھر تھر کانپ اٹھتے ہیں. بھائی آج کل ویسے بھی عزت اپنے ہاتھ میں نہیں صرف ٹیلیویزن کا ریموٹ اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے. عزت صرف رپورٹر کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ جس طرف چاہے لے جاۓ. نہیں یقین تو اگلی دفعہ دیکھ لینا. اب بھائی کی عقل میں کچھ بات آیی اور وہ سمجھے پر کیا کرے وہ بھی تو نکلے میڈیا والے اور دے دی دھمکی ہمارے میڈیا ٹرائل کی. تو بھایو اگلی دفعہ اگر کس صحافی سے مکالمہ ہو جاۓ تو یاد رکھے صحافی بلکل درست کہ رہے ہیں کیوں کے وو غلط نہیں ہوتے نہیں تو اس دن کو یاد کریں جب آپ ہو گیں اور میڈیا.

پاکستان میں پہلے محاورہ ہوتا تھا کے پولیس کی نہ دوستی اچھی نہ دشمنی. پر شاید اب پولیس کا محاورہ ہے کے میڈیا اور وکلا کی نہ دوستی اچھی اور نہ دشمنی.
Link to this post
Comments



Muhammad Ahmed Dec 30, 09, 10:13 AM

hahahaa true ..


Shan Ilahi Dec 29, 09, 08:35 PM

lolz excellent
Rating: 4          
Categories: طنز و مزاح
Viewed 2745 times, 2 comments
Share
About Muhammad Moeen
Name: Muhammad
Location: Lahore, Pakistan Since: July 2008 Posts: 11
I dont think after so many years spending with me still i dont understand myself clearly. Maybe its a lengty process as the equation which needed to be solved has not one solution or may be I am following a different way
Location: Pakistan

powered by
TickBar