قرارداد سال نو

by Yaser Awan Dec 31, 09, 06:53 PM

٢٠١٠ آیا کھڑا ہے، چند ہی گھنٹوں میں ہم اس سال میں داخل ہو جایئں گے(گوکے ہم وہیں کی وہیں کھڑے ہیں پر سال خود چل کر ہمارے پاس آ گیا تو ہم اب کیا کریں). گزرا سال بہت سی تلخ یادیں اور گہرے زخم چھوڑ گیا. خیر اب ان زخموں کو رونے کو کیا فائدہ، بات کرتے ہیں آنے والے سال کی. ہر سال کی طرح اس سال بھی ہم نے قرارداد سال نو اکثریت اتفاق راے سے پاس کر لی ہے. اس قرارداد کا مسودہ عوام الناس کی مفت رہنمائی کی لیے پیش خدمت ہے.
زندگی بھر ہم کبھی صبح صبح اٹھ کر دن کا آغاز نہیں کر سکے، اب ہم نے تہیہ کر لیا ہے کہ ہم اس کا سدباب کریں گے، چناچے ہم اپنی گھڑی کو صرف ٦ گھنٹے پیچھے کیے دے رہے ہیں تاکے صبح صبح دن کا آغاز کر سکیں. نوکری پیشہ آدمی صبح صبح اٹھنے اور چھوٹے موٹے کاموں سے فارغ ہونے کی بعد دفتر کا رخ کرتا ہے. اتنی ٹریفک، رش اور سگنلز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دفتر جانا پانی پت کی جنگ لڑنے جیسا ہے. ایسے میں ہمیں مجبورا ھارن کا بےجا استعمال کرنا پڑتا ہے. اب ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ نے سال میں ہم اپنی گاڑی سے اس منحوس ھارن کو نکال پھینکیں گے اور اس کی جگہ ایک بھاری بھرکم آواز والا ھارن لگوایئں گے تاکے ایک بار بجانے سے ہی جرنل پبلک کو اندازہ ہو جائے کہ مابدولت تشریف لا رہے ہیں اور ہمارا راستہ کسی وی آی پی کے راستے کی طرح (یا ہمارے ایک دوست کے سر کی طرح) خالی ہو جائے. کاروباری اور پروفیشنل زندگی میں ہمیں بہت سے لوگوں کی ٹانگ کھینچنا پڑتی ہے. کوئی ہم سے آگے نکل رہا ہے کسی سے ہم پیچھے رہ رہے ہیں، اب فیصلہ ہو گیا کہ آیندہ ایسا نہ ہو گا. اگر کوئی آگے نکلتا ہے تو نکلے پر کسی کے ٹانگ کھینچا مناسب نہیں (ویسے بھی ٹانگ کھینچتے کھینچتےکوئی اور "حادثہ" ہو گیا تو خاہ مخاہ کی شرمندگی اُٹھانا پڑے گے)، ہاں اگر سیڑھی ہی کھینچ لینے کا موقع ملا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اس میں زیادہ سے زیادہ ٹانگ ٹوٹنے کا خطرہ ہے یا سر پھٹنے کا جس سے کسی کو اصل نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، عزت تو آنی جانی چیز ہے اُسے نقصان پھنچا کر کیا حاصل. پان کھانے کا ہمیں عرصہ دراز سے شوق ہے، ہمارے کچھ بھائی پان کھاتے وقت پورے ملک کو تھوکدان کے حیثیت دے دیتے ہیں. ہماری ان سے گزارش ہے کہ اس نے سال میں وہ یہاں وہاں تھوکتے وقت اس بات کا دھیان رکھیں کہ ان کا نشانہ سہی ہو. اگر گردونواح میں کوئی لٹھے کا شلوار سوٹ پہنے نظر ہے تو پان کے پیک سے اس کی تواضح ضرور کریں. ہماری عرض یہ ہے کہ پان کے پیک ضرور تھوکیں (ایسی گندی چیز کو تھوک ہی دینا چاہیے) بلکے اتنا تھوکیں کہ ہر طرف سرخ رنگ پھیل جائے، آخر کو یہ انقلاب کا رنگ ہے. ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اس سال دل کھول کر سوشل ورک کریں گیں جیسے کہ بوڑھوں کو زبردستی سڑک پار کروانا وغیرہ. آپ سب کو نیا سال مبارک ہو، آخر می ایک پبلک سروس میسج،
قدرت کے حس ظرافت دیکھیے کہ اس سال کا اختتام جمرات کو ہو رہا ہے، مانگ تانگ کر گزارا کرنے والی قوم کی لیے اس میں گہری نشانیاں ہیں. ہمیں چاہییں کہ ہم آنے والے اس سال میں دل کھول کر مانگیں، ہاں ایک گزارش ہے کہ جتنا مرضی مانگیں کم از کم اس امداد میں خردبرد نہ کریں تاکے کوئی ہمیں کیری لوگر بل دے کر ہماری صفوں میں ایسی صورتحال نہ پیدا کر دے کہ جس سےصاف ظاہر ہو جائے کہ ایک تو ہم غریب ہیں اوپر سے بدتمیز بھی.
اس سال آپ نی کیا کیا ارادے کیے ہیں ہمیں کومنٹ دیں کر ضرور آگاہ کیجیہ گا
Link to this post
Comments



Syed Jaafer Tayyar Naqvi Dec 31, 09, 07:46 PM

not applicable on me :)
Rating: 0          
Categories: طنز و مزاح
Viewed 3019 times, 1 comments
Share
About Yaser Awan
Name: Yaser
Location: Lahore, Pakistan Since: July 2008 Posts: 111
I am an IT professional, an Entrepreneur and a citizen Journalist. In my spare time I read poetry and write about Customer Relationship Management, Marketing, Advertisement and Technology at Bhonpoo.com
Location: Pakistan

powered by
TickBar