تو کیا ہوا جو ہمارے دانت انگریزوں سے زیادہ تیز ہیں..

by Yaser Awan Jan 31, 03:48 PM

یہ انگریز بھی عجیب قوم ہے. ایک تو اپنے ملک بلاتی ہے پھر اتنی بھی مہمان نواز نہیں کہ ایک آدھ ٹیسٹ میچ اور ون ڈے ہمیں بھی جیتنے دے (مجھے یاد ہے جب بھی ہم کسی ٹیم کو بلاتے ہیں اول تو وہ آتے نہیں ، جب آتے ہیں ہم ان کی خوب خاطر کرتے ہیں، میچ ہار جاتے ہیں پر دل جیت لیتے ہیں) . اوپر سے یہی نہیں اب ہمارے ہر دل عزیز "بوم بوم آفریدی" پر بال ٹیمپر کرنے کا الزام لگا رہی ہے. بھائی اس معاملے کو ذرا باریکی سے دیکھا جائے تو حقیقت واضح ہو جائے گی. جیسے کہ جس طرح لوگ احساس کمتری کا شکار ہوں تو اپنے ناخن اور انگلیاں چبانے کے عادی ہوتے ہیں اسی طرح یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہمارا ہونے والا کپتان اتنی بری شکست کی وجہ سے بال چبا رہا ہو. اب یہ بھی تو کتنی بڑی بیہودگی ہے کہ ٢٦ مختلف کیمرے ہر وقت میدان میں کھیلنے والوں پر نظر رکھے ہوتے ہیں، بھلا ان سے کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ پریویسی بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور بھلا کھیل کود جیسے معصومانہ فعل پر نظر رکھنے کے لیے اتنے کیمروں کی کیا ضرورت ہے؟ چناچے اگر کسی کے خلاف کارویی ہونی چاہیے تو ان کیمرے لگانے والوں کے خلاف کی جائے. آپ خود سوچیں اگر آپ کچھ چبانے میں مشغول ہوں اور کوئی آپ کے منہ میں گھس کر بیٹھ جائے یا آپ کو گھورنا شروع کر دے تو آپ کو کتنا برا لگے گا.
اگر یہ ساری باتیں بلاۓ طاق بھی رکھ دیں جایئں تو یہ بات بلکل اگنور نہیں کی جا سکتی کہ شاہد بھائی کا تعلق پٹھان فمیلی سے ہے. ایک دفع پہلے بھی وہ پچ کی گوڈی کرتے دھر لیے گۓ تھے حالانکہ اس وقت بھی آفریدی بھائی کا مقصد صرف اور صرف گرونڈز مین کی مدد کرنا تھا. ویسے بھی پٹھان بھائی کا جب جو دل کرتا ہے وہ کر گزرتا ہے، متعصب مغربی میڈیا کو چاہیے کہ وہ زیادہ عقلمند بننے کی کوشش نہ کرے اور اپنی زبان کو لگام دے. کم از کم شاہد بھائی اتنے کم ظرف نہیں کہ انھیں اپنی غلطی کا احساس نہ ہو. وہ تو بادشاہ آدمی ہے اس نے میڈیا کا دل رکھنے کے لیے اس سادہ لوہی سے اقرار بھی کر لیا ہے تو اب اور کیا چاہیے.
اسی معاملے میں ہماری مشاہدی صاحب (جن کا ذکر ہم اپنے پچھلَے کئ مضامین میں کر چکے ہیں) سے گفتگو ہوئی تو ایک بہت اہم نقطہ انہوں نے بھی اٹھایا کہ ایسا پیٹ میں کیڑے ہونے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے (مغالطے میں نہ لے لیجیہ گا ہمارا مقصد یہ کہنا نہیں کہ آفریدی بھائی کو کوئی کیڑا ہے)، کہنے کا مقصد ہے کہ پیٹ میں کیڑے ہونے کی وجہ سے چھوٹے بچے مٹی اور چونا کھانے کے شوقین ہوتے ہیں. اسی طرح ہو سکتا ہے شاہد بھائی بھی بال پر لگی مٹی تناول فرما رہے ہوں. ہم نے جواب دیا کہ اس پر تو لوگ اعتراض کر سکتے ہیں کہ ایسا تو ہاتھ سے مٹی جھاڑ کر بھی کیا جا سکتا تھا.مشاہدی بولے کہ بھائی جس طرح جو مزہ ہاتھ سے کھانے میں ہے وہ چمچ سے کھانے میں نہیں، بلکل ایسا ہی کچھ اس معاملے میں بھی ہے. بات تو پتے کی ہے پر یہ بات میڈیا کو کوئی کیسے سمجھاے.
میری جوانان وطن سے گزارش ہے کہ آفریدی بھیا ہمارے لیے ایک آئڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں،چناچےوہ بھی اتنے طاقتور دانتوں کے لیے روز دانت برش کریں تاکے وقت آنے پر وہ بھی اپنے دانت گاڑھنے سے نہ گھبرائیں اور اپنے راستے میں آنے والی ہر مشکل کو چبا ڈالیں.
تو شاہد ہے چبا کھانا ہے کام تیرا
تیرے سامنے گیند بال اور بھی ہیں
Link to this post
Comments

No comments to list
Rating: 3          
Categories: طنز و مزاح, کھیل
Viewed 5165 times, 0 comments
Share
About Yaser Awan
Name: Yaser
Location: Lahore, Pakistan Since: July 2008 Posts: 123
I am an IT professional, an Entrepreneur and a citizen Journalist. In my spare time I read poetry and write about Customer Relationship Management, Marketing, Advertisement and Technology at Bhonpoo.com
Location: Pakistan

powered by
TickBar