یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنّت
یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنّت
جنّت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی
بچپن سے اپنی ٹیکسٹ بکس اور گائیڈ بکس کے تناظر میں میں یہی سمجھتا رہا کہ یہ شعر ایک نہایت ہی آسانی سے سمجھ آنے والا شعر ہے اور شاعرنے خون کو گرمانے کے لیے کیا خوب ارشاد کیا ہے. لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذہن میں ہمیشہ ایک سوال اٹھتا رہا کہ اس شعر کا ایک ایک حرف سچ ہے پر پھر بھی ایسا کیوں ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصّہ نہیں بن سکا؟ آج صبح جب میں دفتر کے لیے نکلا تو اس شعر کا اصل مطلب مجھ پر عیاں ہو گیا.
دراصل اس شعر میں یہ بتانا مقصود نہیں کہ جنّت کافر کو نہیں ملتی بلکے یہ بتانا مقصود ہے کہ مسلمان کون ہے؟ مسلمان غاصب نہیں ہے ، مسلمان انصاف کرنے والے ہے. اور حقوق الله کے بعد سب سے پہلا انصاف اپنے کام سے انصاف ہے. یہ جنّت اس لیے "کافر" کے قبضے میں ہے اور شاید رہے گی بھی کیونکہ ہم نے ایک آسان حل تلاش کر لیا ہے ... یوم یکجیھتی کشمیر منانے کے لیے ہم سب اپنے آفس، سکولوں اور یونیورسٹیوں سے چھٹی کر کے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں،دیر تک سوتے رہتے ہیں،( لاہوری بھائی سری پایوں کا ناشتہ کرتے ہیں) اور یا تو اپنے تابناک ماضی پر فخر کرتے رہتے ہیں یا پھر سیاسی بحث مباحثے میں لونگ ویکنڈ گزار دیتے ہیں. جس وقت ہمیں بحیثیت قوم کام کر رہے ہونا چاہیے اس وقت ہم اضافی چھٹیوں کا شغل اپنایے ہووے ہیں.
سچ کہتے ہیں "جنّت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی"
Link to this post