پاکستانی بلاگز کے لیے اوارڈز

by Yaser Awan Feb 13, 02:25 PM

پہلے تو ایک سیاسی بیان، ہم سی آیی او، رابعہ غریب، گوگل اور ڈان ٹی وی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی بلاگرز کے لیے اوارڈز منعقد کروا رہے ہیں. ہم پاکستانی بلاگنگ کمیونٹی کی جانب سے اس کمال خراج تحسین پر آپ کو سلام پیش کرتے ہیں. ہاں تو بات ہو رہی تھی اوارڈز کی،آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور آیا ہو گا کہ آج ہم ان اوارڈز کو اپنے کالم کا موضوع کیوں بنا رہے ہیں؟ اس سے پہلے کہ آپ ہمارے بارے میں کوئی غلط راے قائم کریں ہم آپ کو یقین دلاے دیتے ہیں کہ ہمارا مقصد خوشامد کرنا نہیں ہے؟ نہ ہی ہمیں بلاگ آوارڈز والوں نے کوئی رشوت دی ہے اور نہ ہی ہمارا مقصد سستی شہرت حاصل کرنا ہے. ویسے ہم اس اوارڈز کے لیے نامزدگی کی زد میں تو ضرور آ گئے ہیں پر ہم تو درویش لوگ ہیں ہمیں اوارڈز سے کیا (لیکن ہم جیت گئے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں، اگر ہمیں زبردستی بلا کر اوارڈز دینے کی کوشش کی جایے تو ہم کسی کا دل تو نہیں توڑ سکتے نا).
بہرکیف بات ہو رہی تھی اوارڈز کی تو اوارڈز کے لیے جج صاحبان کے علاوہ عوام الناس کی راے کو بھی اہمیت دی گیی ہے ، اس لیا آپ تمام خواتین و حضرات پر فرض ہے کہ ووٹ اور آرا کا اظہار کریں (ورنہ ہم کسی عالم کا فتویٰ لے آیئں گے اور آپ کو پھر سے کلمہ پڑھنا پڑے گا). جب آپ بلاگ اوارڈز کی سائٹ پر جایئں تو ہمیں مت بھول جائیے گا ویسے بھی ایک آدھ ووٹ سے آپ کا کیا بگڑ جائے گا (ہر وقت مانگتے ہی رہتے ہو اپنے ملک کی حکومت کی طرح، کبھی کسی کو کچھ دے بھی دیا کرو). ویسے بھی ووٹ ایسی چیز ہے کہ جو ہم سوچے سمجھے بغیر ہی دے دیتے ہیں تو پھر ہماری باری بھی اپنی عقل پر یہ پردہ پڑا رہنے دیں. بقول ہمارے دوست معین کے "ووٹ اور کھالیں ہمیں دیں". وہ اور بات ہے کہ کھالیں دیتے تو ہم سال میں ایک دفعہ ہیں اور باقی سارا سال ہماری کھال خود سے ہی ادھیڑ لی جاتی ہے (ملائضہ ہو کتاب "غریب کی کمآیی"، جِلد "مہنگائی اور دوہایی" باب "کھال اتر آیی" ). عوام کے حق راے دہی کو (جس کا رائتہ بنا کر ہم کب کا کھا چکے) اتنی اہمیت آج تک کسی نے نہیں دی (یہ بات قبل غور ہے کہ منتظمین آپ کو کسی نمبر پر مبلغ ١٠ روپے کے عوض میسج کرنے کو نہیں کہ رہے، جس سے ان کی نیک نیتی اور سادگی صاف ظاہر ہے).
ہمیں بھی ان اوارڈز میں مزاح کی کیٹیگری کے لیے نامزد کیا گیا ہے (اندر کی بات ہے کہ ہم نے خود سے ہی اپنے آپ کو نامزد کر دیا تھا. ہمیں اس میں کچھ آر تو محسوس ہوئی پر خدشہ تھا کہ اس گوہر نایاب کو کوئی جوہری خود سے تلاش نہ کر پایا تو کیا ہو گا؟). بہرحال ہم نے بھی یہ قدم اٹھا لیا اور بلاگ اوارڈز والوں نے بھی اب آپ بھی منتظمین کی اور بلاگرز کی حوصلہ افزایی کریں.
آپ مندرجہ ذیل لینکس پر جا کر ووٹ ڈے سکتے ہیں اور اپنی راے کا اظہار کر سکتے ہیں.
http://blogawards.pk/2009/12/31/humor-blog-buzzm-seenreport-com/
http://blogawards.pk
Link to this post
Comments

No comments to list
Rating: 1          
Categories: طنز و مزاح
Viewed 2955 times, 0 comments
Share
About Yaser Awan
Name: Yaser
Location: Lahore, Pakistan Since: July 2008 Posts: 111
I am an IT professional, an Entrepreneur and a citizen Journalist. In my spare time I read poetry and write about Customer Relationship Management, Marketing, Advertisement and Technology at Bhonpoo.com
Location: Pakistan

powered by
TickBar