کچھ تبصرے، محاورے اور ان کا سیاسی استعمال
آج کچھ تبصرے، محاورے اور ان کا سیاسی استعمال پیش خدمت ہیں.
راجہ پرویز اشرف نے بِجلی کے بحران پر قابو پانے کے معاملے میں قوم کو خوب سبز باغ دکھایے.
گورنر تاثیر گورنر ہاوس میں نہیں احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں.
مسلم لیگ کے جلسے میں بجلی چوری نے جلسے کی میڈیا کوریج کو چار چاند لگا دیے.
پاکستان ہاکی ٹیم ہاکی ورڈ کپ میں نیچے سے نمبر ١ آی ہے (بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی)
شیخ رشید نے کہا ہے کہ دیکھتے ہیں کون اصل میں جیتا ہے اور کون ہارا ہے (رسی جل گیی پر بل نہیں گئے)
عمران خان نے جلسے میں خطاب کرتے ہوۓ کہا ہے کہ حکمران امریکا کی کٹھ پُتلی ہیں.(بندر کیا جانے ادرک کا سواد)
میاں منشا صاحب دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں شامل (میاں صاحب اپنے سارے فون بند کر دیں ابھی آپ کو ایک کال آنے والی ہے ).
ویسے ہمیں بین الاقوامی اداروں سے یہ گلہ ضرور ہے کہ عام طور پر وہ ایسی کسی چیز کی فہرست ہی نہیں بناتے جس میں پاکستانی اوپر آ جایئں، جیسے آمدنی بالمقابل ٹیکس، ہمیں یقین ہے ہمارے پاس ایک میاں صاحب ایسے بھی ہیں جو اس فہرست میں سب سے اوپر ہوں گے).
پی سی بی نے ایک حیران کن فیصلے میں یونس خان اور یوسف پر عمر بھر کی پابندی لگایی اور اب شاید واپس بھی لے لی (کہتے ہیں دودھ کا جلا چھاج بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے، لیکن ایسا صرف عقلمندوں کے لیا مشہور ہے، عقلمندی پی سی بی کے دائر کار سے باہر ہے، اسے اعجاز بٹ کی طرف سے محاورے بنانے والوں کو ایک وارننگ سمجھیں).
وزیراعظم نے فرمایا بچے تو پیدا ہوتے رہتے ہیں رکشوں میں نہیں تو کہیں اور سہی (سچ کہتے ہیں پہلے بات کو تولو پھر منہ سے بولو).
رانا ثنااللہ پلازے والے تناضے کے بعد اب ایک اور تناضے میں گھر گئے ہیں، کالعدم تنظیموں کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ لیے جلسہ کرتے کیمرے کی زد میں آ گئے (سچ ہے بھائی اس حمام میں سب ننگے ہیں)
سلمان تاثیر صاحب کے جلسے میں کوئی اور تقریر کر گیا (وہ پنجابی فلم کا گانا ہے نہ... سُتی نو.......... )
Link to this post