دہشتگردوں میں تم سے نہیں ڈرتا
اس وقت جب میں یہ کالم لکھنے بیٹھا ہوں اس وقت میرے کانوں میں ہر ٥-١٠ منٹ کے بعد ایک دھماکے کی آواز گونج رہی ہے. میرا گھر علامہ اقبال ٹاؤن کے بیچو بیچ واقع ہے اور آخری اطلاعات آنے تک اقبال کے نام پر بنایی جانے والی اس آبادی میں ٥ دھماکے ہو چکے ہیں. میں خود بھی ایک دھماکے والی جگہ کے بہت پاس تھا جب دھماکہ ہوا. سب کے سب دھماکے معمولی نویت کے تھے اور اس میں ایسا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا جس سے زیادہ نقصان نہیں کیا جاسکتا. ابھی تک چند لوگ زخمی ہوۓ ہیں اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا. ہاں بےیقینی اور گھبراہٹ کی ایک فضا ضرور پیدا ہو گیی ہے. پولیس ، ایمبولنس اور باقی شہری ادارے ہر دھماکے کی آواز پر اِدھر سے ادھر آ جا رہے ہیں.
دھماکوں کی معمولی نوییت سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دھماکے شاید کینٹ کے علاقے سے دھیان ہٹانے کے لیے یا خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کیے جا رہے ہیں. گھر میں سب پریشان بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے. موبائل نیٹورک جیم ہیں. میری تین سالہ بھانجی نے جب دیکھا کہ سب اپنے اپنے فون پر جانے کیا کر رہے ہیں تو وہ اپنا کھلونا فون اٹھا کر بٹن دبانے لگی اور وقفے وقفے سے کمرے میں موجود ہر بندے کا نام پکار کر پوچھنے لگی، "آپ کہاں ہو"؟ بڑی بھانجی سب کو بتا رہی ہے کہ کس طرح کچھ دن پہلے جب اس نے سکول میں ایک زوردار آواز سنی تو کیسے وہ ڈر سی گیی. شاید یہ وہ اثر ہے جو یہ جنگ اس قوم کے بچوں پر چھوڑے جایے گی.
اس وقت میرا دل کر رہا ہے کہ کسی کھلے میدان میں نکل جاؤں اور چلا چلا کر ان دہشت گردوں سے کہوں کہ میں یہاں ہوں، میں ہوں پاکستان ، اَو دکھا دو مجھے کہ تم میں کتنا دم ہے، پھاڑو میری اطراف میں بم، میں تم سے نہیں ڈرتا تم مجھے مار تو سکتے ہو پر میری آواز کو نہیں دبا سکتے.
Link to this post
bastards........