فیس بک کا بائیکاٹ

by Yaser Awan May 19, 07:17 PM

برسوں پہلے جب میں ایک چھوٹا سا بچہ تھا تو ایک دفعہ چڑیا گھر جانے کا اتفاق ہوا. چلتے پھرتے سیر کرتے ہوۓ جب میں ایک ببون (ایک بندر نما جانور) کے پنجرے کے سامنے سے گزر رہا تھا تو ایک عجیب تماشا دیکھنے کو ملا. چند نوجوان جن کی عمر ١٨-١٩ سال کے لگ بھگ ہو گی ببون کے بڑے سےپنجرے کے سامنے چند انگور لئے کھڑے تھے. یہ نوجوان دور سے پنجرے میں ببون کی طرف ایک ایک کر کےانگور اچھالتے اور ببون اچھلتاہوا کبھی ادھر اور کبھی ادھر ہو کر انگور لپک لیتا اور مزے سے کھاتا جاتا. پھر ان نوجوانوں نے ایک عجیب حرکت کی، انگور اچھالتے ہوۓ بیچ میں کبھی کبھی وہ خالی ہاتھ سے ببون کی طرف انگور پھینکنے کی طرح بازو گھماتے. ببون اپنے اندازے سے آنے والے انگور کو پکڑنے کے لیے لپکتا پر جب اپنی طرف آتے ہوۓ انگور کو اپنے ہاتھ میں نہ پاتا تو پاگلوں کی طرح کبھی سر پیٹنے لگتا تو کبھی زمین پر اپنے ہاتھ مارتا اور کبھی جنگلے سے اپنا سر ٹکراتا اور ارد گرد کھڑے لوگ اور یہ تماشا کرنےوالے نوجوان خوب لطف اندوز ہوتے.
معذرت کے ساتھ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ شاید آج ہم مسلمان بھی انہی حالات میں گھرے ہوۓ ہیں. اپنی مجبوریوں، مصائبوں اور محرومیوں کے پنجرے میں قید کسی ببون کی طرح. جس کا جب دل چاہے ہماری طرف انگور اچھالے اور جب تماشا بنانا چاہے تو محظوظ ہونے کے لیےخالی ہاتھ گھما دے.
ایک ڈینش اخبار میں جب کارٹون چھپا تو خاص طور پر ہم پاکستانی مسلمانوں نے اپنے ہی بھائیوں کی دکانیں اور اپنے ہی ملک کی املاک کو آگ لگا کر نبی سے محبّت کے جذبے کو تسکین پھنچایی. اور پھر تو یہ سلسلہ ہی چل نکلا. جس نے جب چاہا ہمیں اپنے انگلیوں پر نچایا، اور ہم عمل میں صفر مسلمان اپنے نبی سے مہبت ثابت کرنے کے لیے وہ کچھ کرتے رہے جس کی ہمارا دین قتاً تلقین نہیں کرتا.
اس دفعہ جب ایک معروف ٹی وی سیریز کو نشر کرنے والے ٹی وی نیٹورک نے اس سیریز کےایک متنازع حصّے کو سنسر کیا گیا تو آزادی اظہار رایے کے متوالے تڑپ اٹھے اور انھوں نے ایسا دن منانے کا فیصلہ کیا کہ جس میں حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کی تصویر بنانے کا فیصلہ کیا، یقینن یہ شیطانی عمل ہے پر اس طرح کے عمل کیوں بار بار دنیا میں ہو رہے ہیں؟ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا وہ تماشا ہے جو ہم دنیا کو دکھاتے ہیں. اپنی محرومیوں اور ناکامیوں کی ذمےداری دوسروں پر ڈالنے والی قومیں یقینن ایسا ہی کرتی ہیں. کبھی کسی کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتی ہیں تو کبھی اپنی ہی سڑکوں پر ٹائر جلا کر اپنا ہی نقصان کرتیں ہیں، کبھی یہ نہیں سوچتیں کہ ہم ایسی مصنوعات بنایئں کہ جنھیں استعمال کرنے میں ہم خود بھی فخر کریں اور کسی بھی وقت ہماری مصنوعات کا معیار ان سب مصنوعات سے بہتر ہو. اسی طرح نہ تو فیس بک ہماری ہے اور نہ ہی بائیکاٹ کر کے ہم اسے کوئی نقصان پھنچا پایئں گے. اس بات میں قتاً کوئی شک نہیں کہ آج آپ کسی کو فیس بک پر یہودیوں کا مخالف نامزد کریں تو فیس بک کی انتظامیہ اسے ڈیلیٹ کرنے میں ذرا بھی تامل سے کام نہ لے. پر بھائی دنیا کی حقیقت یہی ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس. اگر نبی سے واقیی محبّت ہے تو نبی کی اطاعت کرو، دین میں بھی چھا جو اور دنیا کو بھی تسخیر کر لو (مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ). پڑھو لکھو، محنت کرو، دھوکہ نہ دو، اشیا کا معیار نہ گراؤ، ترقی کرو اور ایسے بن جاؤ کہ پھر کوئی فیس بک تمھارے آگے یوں اکڑ کر کھڑی نہ ہو سکے.
اور آخر میں ملک کے تمام مسلمان بھائیوں کو لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر مبارکباد جس کے نتیجے میں فیس بک پاکستان میں بلاک کر دی گیی ہے، یقینن اب ہماری نبی سے مہبت کے جذبے کو تسکین ملے گی جب ہم اس کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیےیہ سوچیں کہ دنیا میں ایسا کوئی دن نہیں منایا جا رہا (کیونکہ ہمیں نظر نہیں آ رہا) جس سے ہمارے جذبات اور غیرت کو ٹھیس پھنچے.
Link to this post
Comments



Abdullah Zaki May 19, 08:26 PM

عمدہ تحریر


Bilal Munir May 19, 07:27 PM

*likes*
Rating: 1          
Categories: تعلیم, مذہب
Viewed 6311 times, 2 comments
Share
About Yaser Awan
Name: Yaser
Location: Lahore, Pakistan Since: July 2008 Posts: 123
I am an IT professional, an Entrepreneur and a citizen Journalist. In my spare time I read poetry and write about Customer Relationship Management, Marketing, Advertisement and Technology at Bhonpoo.com
Location: Pakistan

powered by
TickBar