فیس بک : جنگ یا جہالت کی حد؟
رات کے اس وقت نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور ہے. اپنے کمرے میں میں پریشان بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ ہم یہ کیا کر رہے ہیں. پہلے فیس بک، یو ٹیوب ، وکیپیڈیا جیسی ویب سائٹس پر پابندی لگانا اور اس کے بات اپنی جھوٹ موٹ کی فتح پر یوں ڈنڈے لہرا کر جشن منانا کہ فیس بک کو ٢ بلین یورو کا نقصان ہو گیا ہے (میرے بھائیوں اور بہنوں فیس بک تو کیا دنیا کی کوئی کمپنی اس طرح کے ریٹ پر پرافٹ نہیں کماتی تو فیس بک کو ٢ دن میں اتنا نقصان کیسے ہو سکتا ہے؟ خیر اس بارے میں تو میں اپنے پچھلے کالم میں لکھ چکا ہوں پر اب تو رہی سہی قصر ایک اور تازہ خبر نے پوری کر دی ہے. جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ کس طرح اس خود ساختا فتح کو ہمارا میڈیا بھی کمال فتح بنا کر پیش کرے گا اب اس سلسلے کی اگلی کڑی کے طور پر اس سارے فساد کی جڑ خاتون مولی نورس جس نے یہ سارا سلسلہ شروع کیا اس کے معزرتخوانہ بیان کو جو کے کچھ دن پرانا ہے تازہ ترین سمجھ کر پیش کیا جا رہا ہے اور ہم لوگ کچھ بھی جانے بغیر جشن منانے میں مصروف ہیں.میڈیا کو کیا قصوروار کہیں، اس نے جو ووہی دکھانا ہے جو لوگ دیکھنا چاہیں گے، اب تو دشمن بھی ہماری اس "فتح" پر ہنس رہا ہو گا، پر میرا دل تو خون کے آنسو رو رہا ہے.
Link to this post