کل شب جب ہمیں ٹویٹر کی دنیا سے تازہ ترین اطلاع ملی کہ بلاگ اوارڈز کی تقریب آج منعقد ہونا ہے تو دل میں ایک خواہش سی اٹھی کہ ہو سکتا ہے ججز کو کوئی غلط فہمی ہو جایے اور وہ ایک آدھ اوارڈ ہمارے ہاتھ میں پکڑا دیں. دل ہی دل میں ہم نے یہ خیالی پلاؤ پکانا شروع کر دیا، بلکے جیت جانے پر ہم نے تو اچھی خاصی تقریر بھی تیار کر لی، کہ کس کس کا شکریہ ادا کرنا ہے اور اپنے ہی منہ کیسے میاں مٹھو بنانا ہے. پر ہماری پکی پکایی خیالی پلاؤ سے بھری ہنڈیا جانے کون ہماری غیر موجودگی میں چٹ کر گیا.
تقریب کے دوران ایک لمحے کے لیے تو ہمارا دل اچک کا حلق میں آ گیا جب ہم نے اپنا نام پڑھا . گوکہ اوارڈ کسی اور کیٹگری کا تھا پر ہمیں پکا یقین تھا کہ وہ چند ملاقاتیں جو ہماری رابعہ غریب صاحبہ سے کراچی میں سی آیی او سٹوڈیو میں ہوئیں تھیں، ضرور ہم ان پر اپنی شخصیت کا رعب دبدبا جما چکے ہوں گے اور اسی وجہ سے انہوں نے خاص نظر کرم کے تحت ہمیں کسی کمزور مد مقابل والی کیٹگری میں ڈال کر جتوا دیا ہے. ہم تو چلا کر بولنے ہی والے تھے کہ دوبارہ پڑھنے پر معلوم ہوا کہ یہ تو کوئی اور یاسر صاحب ہیں. خیر ہماری دنیا تب بھی امید پر ہی قائم رہی.
جب بلاگ اوارڈز کی تقریب اختتام کو پھنچی اور آخری وقت تک ہمارا نام پکارا نہیں گیا تو تب ہم اس خواب خرگوش سے بیدار ہوے. ابّ سوچ رہے ہیں کہ کون سا دروازہ کھٹکھٹایئں ، کس پر دھاندلی کا الزام لگایئں اور کس سے فریاد کریں. خیر تھوڑا رونے دھونے کے بعد ہم نے یہ پلان بنایا کہ وہ بلاگرز جو اوارڈ جیتے ہیں ان میں سے کچھ کا تعلق لاہور سے ہے اور کبھی نہ کبھی تو وہ واپس آیئں گے ہی، بس طے ہوا کہ ہم لاہور ائیرپورٹ پر ہی ان کا اوارڈ اچک لیں گیں اور ایسے غائب ہو جایئں گے جیسے کوئی ماہر ڈیفالٹر بینک سے قرضہ لینے کے بعد غائب ہو جاتا ہے. پر کیا کریں کمزور دل آدمی ہیں اور ایسے کام کرنے سے آخری لمحے پر کترا جاتے ہیں. اب سوچ رہے ہیں کہ شیخ رشید صاحب کی طرح یہ اعلان کر دیں کہ اوارڈ تو کوئی اور جیت گیا ہے پر یہ تو وقت بتایے گا کہ اصل میں کون جیتا ہے. پر ہم کوئی گجرانوالے کے پہلوان تو ہیں نہیں نہ ہی ہم کسی لال، پیلی ، نیلی حویلی میں رہتے ہیں جو ایسے بیانات دیں.
ایک اور حل یہ سوچا ہے کہ خودساختہ جلاوطنی اختیار کر لیں اور کچھ سال باہر گزارنے کے بعد زوردار طریقے سے بلاگنگ کی دنیا میں واپسی کریں. پر باہر کے سفر کے لیے ہمارے پاس اتنا زاد راہ کہاں. ویسے بھی ہمارے جیسا غریب آدمی، ملک سے باہر نکلنا تو درکنا، سزا پوری ہونے پر جیل سے باہر نکلنے کا سفر آسانی سے طے نہیں کر سکتا.
سوچا تو یہ بھی ہے کہ رابعہ غریب اور تزئین (یہ وہ بلاگر ہیں جو ہماری کیٹگری میں جیتیں ہیں) کی کوئی جعلی آڈیو ٹیپ بنا کر انٹرنیٹ پر فراہم کر دیں، پر نقار خانے میں طوطی کی آواز کوئی کیونکر سن پایے گا. اب دے دلا کر ہمارے پاس ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے کہ بازار جا کر اپنے لیے ایک اوارڈ خرید لایئں اور اس پر جلی حروف میں "شیخ المزاح" لکھوا لیں. جہاں جعلی ڈگریوں پر کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ایک جعلی اوارڈ سے کیا ہو جائے گا.. ویسے بھی آج کل عدالتوں کا رخ جعلی ڈگریوں پر ہے، ہماری باری کافی دیر میں آیے گی. بس ہماری اوارڈز کے منتظمین سے ایک چھوٹی سی التجا ہے ہمیں سپانسرز کے لوگو ارسال فرما دیں، تاکے ہمارے اوارڈ پر اصلی ہونے کا گمان ہو.
اگلے سال تک کے لیے یہی کہا جا سکتا ہے کہ
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
جلتا رہ دل میں پر خوش گفتار رکھ
Link to this post
آداب
Lovely analogies.. :D
Next time you'll win.. InshAllah..
nahi to jeena hoga marna hoga, dharna hoga dharna hoga.. :p