کیا مسخ شدہ تاریخ کے ذریہ ہم اپنی نسل کو دھوکہ نہیں دے رہے؟

by Muhammad Moeen Jun 28, 04:06 PM

تاریخ ایک ایسا علم ہے جس کے بارے مے لکھنے والے درست کہتے ہے کے یہ فاتح کے قلم سے لکھی جاتی ہے. شاید یہی وجہ ہے کے اگر اپ کسی واقعی کے بارے مے جاننا چاہیں تو اپ کو اس شاید اس کا صرف سرکاری رخ ہی کتب میں ملے. وہ سرکاری رخ مخالفت مے بھی ہو سکتا ہے اس کے یا حق بھی جس کا انحصار صرف فاتح کے نکتہ نظر پر ہے.
٧٠ کی دہائی سے ہمارے نصاب میں بہت تبدیلیاں رونما ہوئی جس کی بری وجہ حکمران یا پروپگنڈہ ضروریات کی وجہ سے نصاب کی شکل بگاڑی گئی. وہ ملک جو برصغیر کے مسلمانان کے معاشی اور معاشرتی نکتہ نظر سے بنایا گیا اس کو سیاسی وجوہات کی بنا پر ہر دھرے نے انپے رنگ مے ڈھالنے کی کوشش کی. ان مے وہ دینی جماتیں اور وہ ادارے جن کا اس ملک کے بنانے مے کوئی عمل دخل نہیں تھا اور بلکہ ان میں سے اکثر اس کے وجود کے سخت مخالف تھے وہ اس کی نگہبانی کا دعوه لے کر ابھرے. اقتدار کو طوالت دینے یا اپنے سیاسی مصلحت کی بنیاد پر تاریخ میں تبدیلیاں کی گئی. نتیجہ آج ہماری نسل اپنی ہی تاریخ سے بے بہرہ ہے. سیاسی بنیادوں پر تعلیمی نظام اس حد تک منقسم ہے کے آپ اگر منظور شدہ تاریخ سے روح گردانی کے مرتب ہوئے ہیں تو اس کی سزا امتحان میں صفر اور عام زندگی میں غداری کا الزام ہے. ہم نے سوال تو جرم کرر دے دیا ہے اور یہ فرض کر لیا ہے کے اس ترکیب کے ذریے شاید ہم سچ کو دبا پائیں. پر سوچنے کی بات یہ ہے کے وہ عمارت جس کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہو وہ کب تک قائم رہ سکتی ہے. کیا جھوٹ کبھی بھی سچ کا متبادل ہو سکتا ہے کبھی بھی. کیا ہم یہ نہیں بھول رہے کے اگر کبھی ان پر سچ افشاں ہو گا تو اس کا نتیجہ کیا ان کے ذھن پر ہو گا. یہاں پر لوگ مختلف اقسام کی توجیہات کے ذریے ضرور یہ باور کرانے کی کوشش کرے گے کہ یہ سب کچھ قومی مفاد میں کیا جاتا ہے یا لوگوں کے ذہین میں قومی تشخص اجاگر کرنے کے لئے کیا جاتا ہے. پر کیا وہ لوگ اس بات کی توریج کر رہے ہیں کے جھوٹ بہتر ہے سچ سے. ایک مخصوص اقلیتی حصہ اگر اپنے فائدے کے لئے کچھ کر رہا ہے تو اس سے ملک کا نہیں ان کا اپنا فائدہ منسلک ہوتا ہے. ملک کا فائدہ وہ ہے جو سب کا فائدہ ہے. تو سوچیں کہ تاریخ کو دھوکہ دینا اتنا آسان نہیں ہے. چاہے فاتح تاریخ لکھتے ہے پر تیمور فاتح اعظم ہو کر آج تاریخ مے کس لقب سے مقبول ہے. تاریخ فاتح لکھتا ضرور ہے پر وہ فتح ایک قوم پر ایک علاقے پر کچھ لوگوں پر ضرور پا سکتا ہے تاریخ پر نہیں. سچ اپنا راستہ خود ڈھونڈ لیتا ہے اور جھوٹ کی توریج کرنی پڑتی ہے. تو خود سوچے کیا جھوٹ کبھی فاتح حاصل کر پاۓ گا.
Link to this post
Comments

No comments to list
Rating: 1          
Categories: تعلیم
Viewed 3551 times, 0 comments
Share
About Muhammad Moeen
Name: Muhammad
Location: Lahore, Pakistan Since: July 2008 Posts: 11
I dont think after so many years spending with me still i dont understand myself clearly. Maybe its a lengty process as the equation which needed to be solved has not one solution or may be I am following a different way
Location: Pakistan

powered by
TickBar