اکثر دفعہ کا ذِکر ہے کہ جب بھی ہم گھر سے نکلتے ہیں اور کچھ دور چلتے ہیں تو کوئی نہ کوئی عوام الخاص مل ہی جاتا ہے. کھبی ہم اس کو رستہ دے دیتے ہیں اور کھبی وہ ہم سے رستہ لے لیتا ہے اور ہم اس آ س پر کہ کوئی بڑا آ دمی جا رہا ہے اور ہمیں تو یہی بتایا گیا ہے کہ بڑون کو تنگ نہیں کرتے . پھر یہ بھی سوچ اس ناچیز کے بنجر ذہن میں آتی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ عظیم آ د می عوام کا کوئی نیک کام کرنے ہی جا ر ہا ہو ، تو بس یہی خواب دل میں لیے ہم با آ دب ہو کے ایک کونے میں کھڑے ہو جاتے ہیں. اس خواب میں تو ایک عمر کٹ گئی ہے،آ مریت سے جمھو ریت، اور جمھو ریت سے آ مریت کا یہ سفرمسلسل ہم عوام نے سگنلز اور ناکوں پے رک رک کے ہی کیا ہے.
بڑے بڑے کا روانوں سے بچ کے نکلے تو یہ دیکھا ایک چھوٹا شکاری آ رہا تھا، کار پر پلیٹ تھی ایک MNA کی، ہم نے فور ا رستہ دے دیا ، نہ دیا ہوتا تو بچے ھمہاری گا ڈی کا سٹِکر سال نو کی کاپیوں پے لگاتے ، خیر دل کو یہی تسلی دی کے شاید کٹے پھٹے دستور کے لیے sunny plast لے کر جا رہے ہیں، ممکن ہے جلدی ہو ، ہاں دل کے بہلا نے کو غالب یہ خیال اچھا ہے.
وہاں سے آگے چلے تو یہ کیا ، یہ تو کوئی وکیل ہیں شاید، انھوں نے بھی ایک پلیٹ چسپاں کر رکی تھی، اور کٹ بھی بڑا جاندار تھا ان کے دلایل سے متاثر ہو گا ، مگر ہم کیا کرتے رستہ دینے کا سوا ، ویسے سچ بات تو یہ ہے ان کی عجلت سمجھ آ گئی ہے حق کے لیے لڑنا آسان نہیں، کوئی ہڑتال کرنی ہو گی، مگر ہڑتال کے لیے اتنی جلدی ، یعنی ہم کو دوکان کھولنے کی جلدی ہے کچھ نہ بیچنے کے لیے، خیر ہم ان سے باتوں میں کہاں جیت سکتے ہیں، وہ ہاں جن کے سامنے باتیں کرنے سے رکتی ہے زبان میری. گھر سے دفتر کا رستہ کافی لمبا ہو گیا، ظاہر ہے ہم دریا دل جو ہوۓ ، کوئی ووٹ مانگے یا رستہ، رشوت مانگے یا حکومت ہم سے انکار نہیں ہوتا ، کچھ کو تو ہم نے کسی کی جان کے صدقے میں حکومت دے دی ہے، بس اندازبیان پر سوز ہونا چاہیے.
ان سے بچ کے نکلے تو ایک صحافی صاحب سے ٹکرا گے، یعنی اڑنےبھی نہ پا ے تھے کہ پر کٹ گے. اب ان کو رستہ نہ دے کر ہم نے کوئی بریکنگ نیو ز تھوڑی بننا تھا . سو عافیت اسی میں تھی کہ ایک کونے میں ہو جاتے .
حق ہا اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جایئں گے ...مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جایئں گے ...مرنے کے پروگرام بنایا ہی تھا کہ ڈاکٹر صاحب ٹکر گیے . پلیٹ تھی مسیحا کی اور یاری تھی شیطان سے . بھائی جتنے لوگ زخمی اور بیمار اتنی ان کی چاندی اور بہار . واہ بھائی واہ کیا کہنے ... اور ہم تو ویسے ہے ان کے رعب میں ہیں نمبر جو نہیں آے ہمارے FSC میں . اس وقت کا غصہ تھا آج کچھ کم ہوا ہے .
اتنے ساری نمبر پلیٹس دیکھنے کے بعد ہم نے سوچا کہ ہم بھی کوئی نمبر پلیٹ لگا لیں اپنی پیاری سی گاڑی کے پیچھے .بہت سوچنے کے بعد بھی جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو ہم نے عام شہری کی پلیٹ لگا لی ہے اور سا رے شہر میں اڑتے پھرتے ہیں اب دیکھیں کب چالان ہوتا ہے کہوں کہ عام شہری ہونا کوئی عام بات تو ہے نہیں اس کے بھی بڑے تقاضے ہاں . کیا سمجے .
Link to this post