کیا کہانی کہے کوئی

by Rauf Ahmed Jul 04, 09:11 PM

کہانیاں ختم نہیں ہوا کرتیں نہ رخ بدلہ کرتی ہیں بس سانپ کی طرح کینچلی بدلا کرتی ہیں، وہ جو کل مرے باپ کی ماں کی کہانی تھی وہ آج میری ماں کی کہانی ہے، جو مرے دادے کی کہانی تھی آج مرے باپ کی ہے، ہماری بپتا میں کچھ بھی تو نیا نہیں، بچپن، جوانی بڑھاپا کچھ بھی تو نہیں بدلا. نہ ان کی جیت نئی ہے نہ اپنی ہار نئی، مزدور کے شب و روز پہلے بھی تلخ رہے ہیں، دار کی سرخ ٹہنیوں پہ آج بھی لوگ وارے جا رہے ہیں، دل لوگوں کے پہلے بھی اداس رہے ہیں. اک الجھی ہوئی موہوم سی درماں کی تلاش، دشت و زنداں کی ہوس ، چاک گریبان کی تلاش، کچھ بھی تو نہیں بدلہ. پر یہ کہانیاں تو کہی جا چکی ہیں، وہ جو مایا ہے اس کی بپتا بھی تو سہی جا چکی ہے، سنی جا چکی ہے. آج اگر کوئی لکھے تو کیا کہانی لکھے، ادب برایےادب ہی سہی، ٹھنڈا گوشت، آخری آدمی، علی پور کا ایلی، اداس نسلیں، سفر در سفر، راجہ گدھ کے بعد اب کوئی کہانی کو کیا نئی جہت دے سکتا ہے. وہ جو عشق کے مضموں نسخہ ھاے وفا میں رقم ہو چکےان پہ اب کوئی کیا اجتہاد کرے. بس اک کینچلی ہی بدلی جا سکتی ہے، رنگ بھرے جا سکتے ہیں، نۓ شیڈ ڈالے جا سکتے ہیں، جس طرح پرانے گانوں میں نۓ ساز ڈالے جاتے ہیں یوں فقط ریمکس ہی کیا جا سکتا ہے. شاید مخلوق کی تخلیق کی حقیقت ہی فقط اتنی ہی ہے. لیکن کہانی لوگ پھر بھی کہتے ہیں، کسی بچھڑے کی کہانی، کسی انہونی کی، کسی کے پاس محرومیوں کی پوٹلی ہے تو کسی کے پاس کر دکھانے کے قصّے، کوئی شکستوں کا شمار گنوا رہا ہے تو کوئی نفس کی حراستوں کی راتیں. وہ جو لڑکپن کی اداس شاموں کے سایے سے عبدللہ حسین نے انتباہ کیا تھا اس کی کہانی، پر سب ممتاز نہیں ہوتے کے سر رہ چیتھڑے دھونے بیٹھ جایئں. یوں بھی ہو سکتا ہے کہ رات ڈھلے خاموشی جو سرگوشیاں کرتی ہےکوئی اس کی کہانی کہے یا اس کویل کی کہانی جو آدھی رات کو اداس کھمبوں کے گیان کو کھنڈت کرتی ہے یا کچھ بے خواب صبحوں کی کہانی مگر ان میں سے کوئی بھی اپنی کہانی نہیں تو کیا کہانی کہے کوئی اور پھر کہانی ختم ہی نہیں ہوئی تو رقم کیا کریں
Link to this post
Comments

No comments to list
Rating: 1          
Categories: ادب
Viewed 3236 times, 0 comments
Share
About Rauf Ahmed
Name: Rauf
Location: Lahore, Pakistan Since: June 2010 Posts: 1
Location: Pakistan
Related posts

powered by
TickBar