No comments here
|
تو لو جی جناب ا گے بکر عید بلکہ اب تو گزر بھی گی. بکر عید اور ہم ہیں اور ہماری تنہائی. نوکری ایسی کرنی پر کہ بس دیں کیا اور رات کیا ہم ہوتے ہے اور ہمارا کمپیوٹر ہوتا ہے جس پر ہم بیٹھے کتاب چہرہ اور اخبارات کی ایسی تیسی کرتے رہتے تھے پھر رہے ہوتے ہے. تو لو جی ہم نے بھی عید منی اکیلے بچ سمندر جہا نہ کوئی بکرا نہ بکرے کی ذات. نہ قصائی میسر نہ نماز کا پتا. تو کرتے کیا نہ کرتے سبھا اٹھے الله کو یاد کیا اور نکل پڑے روزی کمانے. ویسے نکلنا کہا تھا چار کدام کے فاصلے پر وففکے ہے مللہ کی دور مسجد تک کے موافظ کمرے سے نکل کر وففکے مے تانگے لمبی کی اور اس شاکس کو ١٠٠ گلیو کا ثواب پوھنچایا جو سبھا ٥ بجے کی میٹنگ کا موجد تھا. پھر کرتے کیا نہ کرتے اٹھ کر میٹنگ روم مے گے اور سمجھنے کی بہترین اداکاری کرتے ہوئے ایک گھنٹہ گزارا. حضرت اس بات کا دھیان رکھے کے اس درمیان مے سونا مف کیجیے گا سوتے ہوئے پکڑے جانا گننہ ا عظیم ہے اس لئے اُستاد ووہی ہوتا ہے جو پکڑا نہ جاۓ باکی اپ سمجھدار ہیں. پھر بکرو کو یاد کیا اور خانے کے وقت کا انتظار کیا جہا پر سلاد کے پاتے ہمارا انتظار کر رہے تھے. ہے بکرا نہ ملا اس کی خرق ہی مل گے یہی سوچتے ہوئے کھانا کھایا اور پھر چل سو چل. دوست یار مبارکباد کیا دیتے ادھو بکھرو پر تو اتنی آفت پر کے ان کو ہم نے یاد کروایا کے بھیو آج ہم جس سمندر کے درمیان موج ا زن ہیں وہا پر آج عید سید کا موقع ہے. وو بھی بیچارے دل پر پتھر رکھ کر ایک دوسرے کو مبارکباد دے کر کہتے ہے بھی عید تو ہے پر نوکری کا کیا کرے. خیر دیں گزارا اور رات کو یہ سوچتے سو گے کے چلو بکر عید تو گزر گے اچھا یہ ہوا کہ ہم بکرے نہیں بن گے ان لوگو کے ہاتھو کے ہماری ہی قربانی دے دیتے
Permalink
Comments
No comments here
|
I dont think after so many years spending with me still i dont understand myself clearly. Maybe its a lengty process as the equation which needed to be solved has not one solution or may be I am following a different way
Report Location
Related News
More related reports
More reports
|
powered by ![]() |