Lahore - گیس ٹربل
by Yaser Awan Jan 10, 10:33 AM
893 views

آج کا کالم خاص طور پر ایک ایسے موضوع کے لیے مختص کیا گیا ہے جس کے گرد ہمارے دن اور رات گھومتے ہیں. گیس ٹربل کئی اقسام کی ہوتی ہے، جیسے اجتمایی گیس ٹربل جس کا شکار عام طور پر قومیں ہوا کرتیں ہیں. دوسری طرح کی ٹربل انفرادی گیس ٹربل ہے جو کثرت سے ہر وقت شکم پروری کرنے کی وجہ سے افراد کو لاحق ہو جاتی ہے. اب ان پر باری باری کچھ روشنی ڈالتے ہیں(وہ والی روشنی نہیں جو ٹارچ سے ڈالتے ہیں نہ ہی وہ "روشنی" جس کے کالج کی چھٹی کے انتظار میں آپ بس سٹاپ پر کھڑے رہتے ہیں، ارے باباہمارا مطلب ادبی طور پر تجزیہ نگاری تھا.نہیں؟ اچھا چلیں آپ بےادبی طور پر سمجھ لیں).
اجتمایی گیس ٹربل عموما ان قوموں کو لاحق ہوتی ہے جو پلاننگ کے فقدان کا شکار ہوتیں ہیں. اس مسلے کی اہم علامات سی این جی سٹیشنوں سے گیس کا غائب ہو جانا، ایل پی جی کا مہنگا ہو جانا، فکٹریوں کا بند ہو جانا اور اس کی بعد لوگوں کا سڑکوں پر آ کر توڑ پھوڑ کرنا، سی این جی سٹیشن مالکان کا لوگوں کو یقین دلانا کہ اس ہڑتال کا فائدہ انہی کو ہو گا اور حکومت کا اقرار کرنا کہ یہ جنگ عوام کی فائدے کے لیے لڑی جا رہی ہے. اس کے یہ اجتماعی نقصانات تو ہیں ان کی علاوہ کچھ انفرادی نقصان بھی ہیں جیسے سخت سردی میں ہیٹر کا نہ چل پانا،چولہوں کا بند ہو جانا، گیزر کا نہ چلنا ہیں، ویسے اس آخری نقصان کا فائدہ بھی ہے. اس سے حکومت کا ایک بہت بڑا خرچہ جو خاندانی منصوبہ بندی کے اشتہار بنانے اور نشر کرنے پر لگتا ہے اس کی بچت ہو گی.
اس سے ہمیں یاد آیا آج کل ہم اپنی گاڑی کو ایسے چلاتے ہیں جیسے چھوٹے بچے بڑی سائکل کو کینچی چلاتے ہیں. ہوا کچھ یوں کہ ہماری گاڑی کی بیٹری ڈاؤن ہو گیی ، اب آج کل ایندھن کے جو حالات ہیں ان کو ذہن میں رکھتے ہوے ہم نے اپنی گاڑی پر مزید خرچہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے. چنآچے ہم روز صبح اٹھ کر گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور کمال مہارت سے دروازہ کھول کر کینچی سائکل کی طرح ایک پیر باہر اور ایک اندر رکھتے ہوے گاڑی کو آہستہ آہستہ دھکا دیتے ہیں. جب گاڑی کسی ڈھلوان پر تیزی سے پھسلنے لگے تو ہم فٹافٹ گاڑی میں بیٹھ کر اسے سٹارٹ کر لیتے ہیں. گویا گاڑی نہ ہوئی ہمارے ملک کی اکانومی ہو گیی، دھکا سٹارٹ. فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری گاڑی تھوڑی محنت سے ہی سٹارٹ ہو جاتی ہے اور پھرکم از کم ایک دن بعد پھر ہمیں اسی مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے. خیر ہمیں لگتا ہے جو ہماری حکومتوں کے پلاننگ کے اور ہمارے بطور قوم رویے کے حالات ہیں ہم جلد ہی مشہور کارٹون فلنٹ سٹونز کی طرح گاڑیوں میں بیٹھ کر پیروں سے پیڈل مار رہے ہوں گے.
اگر انفرادی گیس ٹربل کو دیکھا جائے تو اس کی بنیادی طور پر یہ علامات ہیں. پیٹ کا بھاری ہونا، ضرورت سے زیادہ کھایا ہضم نہ ہونا، ڈکار مار کر دل کی تسلی کرنا اور بدہضمی کا شکار ہو جانا (یہاں صرف عام بندے کے کھانے کی بات ہو رہی ہے،خاص بندوں کے کھانے کی بات کرنے کی ہماری اوقات نہیں، ویسے بھی ایسے لوگ کھا پی کی نہ بدہضمی کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی ڈکار مارتے ہیں). ہمارے بہت سارے بھائیوں کو گیس ٹربل صرف اس لیے ہوتی ہے کہ وہ کھا پی کر بوتل پینے کا مطالبہ کر سکیں. ویسے بھی بوتل پیے بغیر ہمیں آرام نہیں آتا اور اس میںبرایی کیا ہے،بلکے کھانے کے بعد بوتل تو ہمارا جم ہوری حق ہے. ویسے بھی اگر یہ گیس ٹربل نہ ہو تو دیسی پھکی اور ہاجمولا بنانے والوں کا تو دیوالیا نکل جائے.
خیر جو ہو رہا ہے اچھے کے لیے نہیں ہو رہا. گیس کی بچت کرنے کے چکّر میں گیس سٹیشنوں سے گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بقیہ ٥ دنوں میں سے ٢ دن لوگ لائنوں میں لگے رہتے ہیں اور جو تھوڑا بہت ٹائم بچ جاتا ہے اس میں کوئی کام کرتے ہیں. ایل پی جی کی قیمت ٦٥ روپے کلو سے بڑھ کر ٩٥ روپے پر پہنچ گیی ہے (خیر اب اس کے پیچھے بھی جو مافیا ہے اس کے نام اور کارنامے بھی سامنے آ رہے ہیں. اس کے بارے میں ہم زیادہ بات نہیں کریں گے کیونکہ ہماری آج کل اپنی ایل پی جی کوٹے کی درخواست زیر غور ہے). ہمیں یہ قربانی دینے سے گریز نہیں کرنا چاہیے پر حکومت کو بھی چاہیے کہ کوئی لانگ ٹرم پالیسی بنیے اور اس مسلے کا کوئی مکمّل حل نکلے چاہے وہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو. اس کے ساتھ ساتھ لوکل ٹرانسپورٹ کو بھی بہتر بنایے تاکے لوگ اس کو بھی استعمال کرنے کی ہمت کر سکیں.تاہم اس صورتحال میں ایک فائدہ ضرور ہے، آٹے، چینی اور اب گیس کی لائن میں کھڑے رہنے سے شاید ہم لائن بنانے، اس میں کھڑے رہنے، اور اپنی باری کا انتظار کرنے کی تمیز سیکھ لیں.
Permalink
Comments
Please login to post comment


Muhammad Ahmed
Jan 17, 11:19 AM
Lush hai yrr ;)

Rating: 2          
Categories: سیاست, طنز و مزاح
893 views 1 Comment
Yaser is based in Lahore, Pakistan and has submitted 86 reports since July 2008
I am an IT professional, an Entrepreneur and a citizen Journalist. In my spare time I read poetry and write about Customer Relationship Management, Marketing, Advertisement and Technology at Bhonpoo.com
Report Location
More related reports
More reports